اسلام اور عورت کی شان

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

مارچ کی 8 تاریخ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جہاں پوری دنیا میں حقوق نسواں کی بات کی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں آزادئ اظہار رائے، مرد و خواتین کے یکساں رہن سہن، کیا مرد عورت برابر ہیں؟ وغیرہ کی بحثیں چڑ جاتی ہیں۔ اور اس بات کو مکمل طور پر دونوں اطراف سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کے اسلام کے تعلیمات میں رہتے ہوئے حقوق نسواں اور آزادئ نسواں میں ہمارا کیا کردار ہے؟ اور کیا ہم اپنے ذاتی بس میں رہتے ہوئے حقوق نسواں کیلئے کوشاں ہیں؟

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

ساحر لدھیانوی

سب سے پہلے ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ اسلام سے پہلے خواتین اور حقوق نسواں کی کیا حالت تھی۔ اہل عرب کا اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا تو سب کے علم میں ہے۔ لیکن کتب یہود اور عیسائیت میں خواتین کے مقام اور حقوق کو کس طرح سے لکھا گیا ہے۔

٭ عورت(حوا) پر الزام لگاتی ہے کہ اسی نے پہلا گناہ کیا اور اسی نے آدم کو بہکایا(پیدائش)عورت کو سزا کے طور پر درد زہ میں مبتلا کر دیا گیا اور مرد کی محکوم بنا دیا گیا( پیدائش3:17)

٭ اور چونکہ مرد نے عورت کی بات مان لی تھی اس لئے اس کو زمین پر زندگی بھر محنت و مشقت سے روزی کمانے کی سزا دی گئی (پیدائش3:18،20)

٭ مرد کا سر مسیح، عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے(1۔ کرنتھیوں 11:3)

٭ عورت کو چرچ میں بات کرنے کی اجازت نہیں(1۔کرنتھیوں14:35)

٭ عورت اپنی قسم کو پورا کرنے کیلئے باپ یا شوہر کی اجازت کی پابند ہے ( گنتی30:3۔15)

لیکن یہاں پر سب سے پہلے کیے گیے دعوے کہ حواؑ نے آدمؑ کو بہکایا تھا، قرآن کریم جھٹلاتا ہے

آدم نے اپنے رب کی نافر مانی کی اور راہ راست سے بھٹک گیا

طہ 121

اسلام وہ مذہب ہے جس نے خواتین کے حقوق کی بات کھل کر کی۔ اسلام سے پہلے جو خواتین کے مقام کا حال تھا، اسے قرآن اس طرح سے بیان کرتا ہے

اس کی ولادت کی خبر جب خود ان میں سے کسی کو دی جاتی ہے تو ان کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

الزخرف 17

یہ اسلام ہی ہے جس نے بیٹا یا بیٹی کی پیدائش کو لوگوں کیلئے یکساں قرار دیا۔

اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے۔ جوکچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملاکر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے

الشوری 49،50

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے

النساء 1

لیکن بد قسمتی سے آج کے دور میں عورت اور خواتین کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جو اس کا حق ہے۔ کہیں پردہ کے نام پر اتنی شدت کا مظاہرہ کیا گیا کے اس کی پڑھائی، صحت اور ذہنی سکون کو مکمل نظر انداز کیا گیا تو کہیں اس کے صنف نازک ہونے کی وجہ سے کام گاہوں، اور مختلف مقامات پر اس کے حقوق کا استحصال کیا گیا۔

اسے ہم پر تو دیتے ہیں مگر اڑنے نہیں دیتے
ہماری بیٹی بلبل ہے مگر پنجرے میں رہتی ہے

 اور سب سے بڑھ کر جاگیر داری نظام میں عورت کو اس کے وراثت سے بھی محروم کیا گیا- وہ حصہ جو قرآن نے مقرر کیا ہے۔

خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ مقرر ہے

انساء 1

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ : مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے،اگر (میّت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہو ں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔اگر میّت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصّہ مِلنا چاہیے۔17اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔اور اگر میّت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصّہ کی حق دار ہوگی۔ (یہ سب حصّے اُس وقت نکالے جائیں گے) جبکہ وصیّت جو میّت نے کی ہو پُوری کردی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کردیا جائے۔تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔

النساء 11

جب ہم تعلیمات نبوی ﷺ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ کتنی ہی ایسی باتوں کو معیوب سمجھتے ہیں جو خود نبی کریم ﷺ کی اسوہ سے تھی۔ حضرت محمد ﷺ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہ ایک کامیاب کاروباری خاتون تھی۔ حضرت عائشہ کو آپ ﷺ خود ٹہلانے کیلئے، اور تفریح کیلئے لیکر جاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے۔

اس کے علاوہ بھی اگر ہم قرآن میں بیان کردہ خواتین کا تذکرہ دیکھیں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت فہم و فراست میں مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں۔ کچھ مثالیں یہ ہیں

٭ فرعون نے جب حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے نومولود لڑکے قتل کردیئے جائیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بچانے کیلئے ان کو ہوشیاری کے ساتھ ایک پٹارے میں ڈال کر دریا میں بہادیا۔ قرآن مجید نے اس کو اللہ کی طرف سے دی ہوئی اس ذکاوت کو اس طرح بیان کیا ہے

اس بچے کو صندوق میں رکھ دے پھر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ، دریا اس کو ساحل پر پھینک دے گا‘‘( طہ 39) اور ساتھ ہی  ان کی والدہ نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی کہ وہ پٹارے کے ساتھ ساتھ جائے اورخفیہ طور پر اس پر نظر رکھے ’’ موسیٰ کی والدہ نے بچے کی بہن سے کہا: اس کے پیچھے پیچھے جا، چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ دشمنوں کو اس کاپتہ نہ چلا‘‘۔ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی عورت کا دودھ نہیں پی رہے تو اس نے ایک مدبر کی طرح کمال ہوشیاری کے ساتھ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آل فرعون سے اس طرح گفتگو کی’’ تو اس لڑکی نے کہا:
تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں
القصص 10

حضرت شعیب علیہ السلام کی ایک بیٹی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنے باپ کی خدمت میں آتی ہے تو ایک انتہائی تجربہ کار مردم شناس منتظم کی طرح گفتگو کرتی نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف یہ جانتی ہے کہ کسی کام کیلئے کن صلاحیتوں والے شخص کی ضرورت ہے بلکہ وہ ان صلاحیتوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام میں پرکھ بھی لیتی ہے’’ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا: اباجان! اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے، بہترین آدمی جسے آپ نوکر رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو
القصص 26

اسی طرح قوم سباء کی ملکہ بلقیس کے قصے میں قرآن مجید عورت کو ایک باصلاحیت مدبر حکمران کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ یہ وہ حکمران تھی جو امور سلطنت مشورے سے انجام دیتی تھی’’ ملکہ نے کہا: اے سردارانِ قوم! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو ، میں کسی معاملے کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی‘‘( النمل32)یہ وہ حکمران تھی جو عدل و انصاف اور لوگوں کی عزت ووقار کا فہم رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ مرد حکمران مفتوح قوموں کے ساتھ کیسے ناروا سلوک کرتے ہیں’’ ملکہ نے کہا: بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں‘‘( النمل34) اور وہ اتنی سمجھدار تھی کہ نہ صرف اپنا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں دیکھتے ہی پہچان گئی بلکہ اس سے قبل ان کو اللہ تعالیٰ کا نبی سمجھ کر مسلمان ہوچکی تھی ’’ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا : کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی: یہ تو گویا وہی ہے، ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہوچکے تھے‘‘ ( النمل42)

جو حضرات عورتوں کے کام کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں ان کیلئے قرآن کا حوالہ ہے

اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کاحصہ ہے

النساء 32

اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ خواتین ملازمت کرسکتی ہیں، کاروبار یا کھیتی باڑی یا اسلام اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی بھی جائز ذریعہ معاش اختیار کر سکتی ہیں۔ اور ان کی کمائی ان کا اپنا حصہ ہی ہوگا۔ اس میں ان کے شوہروں کا بھی کوئی حصہ نہیں۔ یہ خواتین کیلئے ایک فضیلت ہے کہ مردوں پہ گھر والوں کیلئے کمانا لازم ہے لیکن عورت کیلئے نہیں۔

اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان فضیلت، آزادی اور حقوق کی آڑھ میں اسلام کی اہم تعلیمات جیسے پردہ اور مرد و خواتین کے اختلاط کے احکامات کو مکمل نظر انداز کیا جائے۔

اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں
احزاب 59

اب ایک بہت ضروری بات جو اکثر نام نہاد فیمینسٹ اگنور کرجاتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ انسانی وقار کی رو سے مرد اور عورت بالکل برابر ہیں بلکہ کچھ فضائل کے رو سے خواتین کو زیادہ عزت دی گئی ہے جیسے جنت ماں کے قدموں کے پاس ہے۔ لیکن یہ بات بھی قرآن میں ہے کہ اللہ تعالی نے مرد کو خاندانی نظام میں عورتوں کا سربراہ بنایا ہے۔

مرد عورتوں پر قوّام ہیں،اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دُوسرے پر فضیلت دی ہے،اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں
النساء 34

اس سب خوبیوں کے بیان کرنے کا ہر گز مقصد نہیں کہ عورتیں بشری غلطیوں سے پاک ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے غلطی اور گناہ کسی سے بھی سر زرد ہوسکتا ہے لیکن کسی ایک کالی بھیڑ سے پوری صنف کو برا نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن افسوس کے ساتھ

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

About Author

  • Aftab Saqib

    Aftab Saqib, a Certified trainer, Entrepreneur and Social Activist. Saqib is a keen observer, learner, an adept Public Speaker, and an avid reader. His expertise lies in paving pathways for beginners, startups and Organizations.

Comments (8)

Post a Comment